Showing posts with label Karachi Pakistan. Show all posts
Showing posts with label Karachi Pakistan. Show all posts

Sunday, July 8, 2012

KMC TO SELL SHOPS OF MALL OF KARACHI THROUGH PUBLIC HOUSING SCHEME


KMC will start booking of shops at ground floor and mezzanine floor of “Mall of Karachi” (Shahabuddin Market in Saddar) through public housing scheme before Ramadan. Metropolitan Commissioner Matanat Ali Khan said this while chairing a meeting on the construction of Shahabuddin Market. 
The meeting was attended by Senior Director Transport & Communication Muhammad Ather, Senior Director Finance Munawwar Imam, Chief Engineer Muhammad Taha, Director Public Housing Scheme Sabah-us-Salam and other officers. Metropolitan Commissioner on this occasion said that KMC will generate revenue through selling shops of Shahabuddin Market through public housing scheme and for this purpose a scheduled bank with its branches will sell the forms and receive the applications in all Pakistan. 
Application forms would be received by paying Rs. 1000/-.Allotment of the shops will be through computerized draw. He further said that this project has been renamed as “Mall of Karachi” .MC said that construction work on this project is going on speedily and this project will worth 735 million and its first phase will complete in 15 months.

Saturday, March 31, 2012

Karachi: Khouf Aata Hai



عینی نیا زی
عین الیقین


شہر کر اچی کا ہر فر د سہما ہو اڈرا ہو ادکھا ئی دے رہا ہے یو ں محسوس ہو تا ہے گو یا دشمن کے نر غے میں ہیں قا بض فوج فاتح کی طرح قتل عام کر رہی ہے اگر ایسا ہوتا تو ہم اپنے مقدر کا لکھا سمجھ کر صبر کر لیتے کہ آخر دہلی بھی تو سات بار لٹی تھی نا در شاہ نے وہا ں پر پا نچ روز تک قتل عام کا حکم صادر کر ایا تھا۔ لیکن ! یہا ں تو اپنے ہی اپنے گھر کو آگ لگا نے والے اپنے ہی گھر کے چراغ ہیں یہ تو ہمارے اپنے ہم وطن اور مسلما ن ہیں کراچی میں آگ و خون کا کھیل پھر اپنے عروج پر ہے سارادن ٹی وی چینل کرا چی کی سڑکوں پر آگ و خون کی ہو لی دکھا تے رہے اربا ب اختیار اسے روکنے سے قا صر اور بے بس ہیں پھر وہی سیاسی پا ر ٹیوں سے گفت وشنید اور با ہمی مفا ہمت اور تعاون کی یقین دہا نیاں ہل کر اچی کے لیے یہ کو ئی نئی با ت نہیں چھا پے آپریشن گر فتا ریاں پھر اس کے نصیب میں ہے قیا م پا کستا ن کے بعد سے اب تک کئی مرتبہ کر اچی پر اس کا اطلاق ہو چکا ہے خدا کرے یہ نسخہ تیر بہ حدف ثا بت ہو اورشہر میں دیر پاامن قائم ہو سکے ۔
  پیا رے نبی ؐ نے فر ما یا ’’تم میں ایک زما نہ ایسا بھی آئے گا کہ جب مقتو ل کو خبر نہ ہو گی کہ اسے کیو ں قتل کیا گیا ‘‘،آج  ایسے ہی زما نی= سے ہم گذ ر ر ہیں ہیں‘یہ ہمارے لیے کسی عذا ب سے کم نہیں ’ جب انسان کے دلو ں سے انسا ن کا حترام اٹھ جا ئے تو سمجھ لیجیے کہ عذا ب کامو سم آپہنچا  ، ایک ہی ملک کے ایک ہی مذ ہب کے پیرو کا ر ایک ہی ملت کے امین ایک دوسرے کو خو فزدہ کر یں یا ان سے خو ف زدہ رہیں تو اس سے بڑھ کر عذاب موسم اور کیا ہو سکتا ہے ،ایک ہی وطن کے لو گ ایک دوسر ے کو بر ی نگا ہو ں سے دیکھیں کو ئی کسی کا پر سان حا ل نہ ہو تو با قی کیا رہ جا تا ہے انسان اپنے ہی دیس میں خو دکو پر دیسی محسو س کر نے لگے تو عذا ب ہے جنا ب وا صف علی وا صف نے فر ما یا ِ’’ جب زمانہ امن کا ہو اور حا لا ت جنگ جیسے ہو ں تو سمجھو عذاب ہے جنا زے اٹھ رہے ہوں کند ھا دینے وا لو ں کی تعداد میں اضا فہ ہو تا جا رہا ہو ، آنکھیں نم ہو ںارد گرد جشن منا نے وا لے در ند ے ہو ں، دلو ں سے مروت نکل جا ئے ایک دوسرے کا احساس ختم ہو جا ئے ‘‘ کیا ہم ظا لم قو م ہیں ،کیا ہم پرکو ئی عذا ب نہیں آئے گا یو م حسا ب نہیں آئے گا مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہم واقعی ظالم پا کستا نی بے حس قوم ہیں ہما ری آنکھو ں پر نفرت کی پٹی بند ھی ہو ئی ہے ،کیا ہم نے کبھی یہ سو چا کہ ہم اپنے آنے والی نسلوں کے لیے کیسا پا کستا ن بنا رہے ہیں ہم انھیںکیا جواب دیں گیں ۔ ہم نسل، ز با ں علا قے کی بنیا دپر کب تک خون بہا تے رہیں گیں یہ کیو ں بھو ل جا تے ہیں کہ جب تعصب کی ہوا چلتی ہے تو پھر انسانیت کو چ کر جا تی ہے ۔کراچی کے با رے میں اب یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اسے مختلف لسا نی اور قومیت کے در میا ن تقسیم کر دیا گیا ہے ایک قو میت کے فرد کو دوسرے علا قے میں جا نے کی اجا زت نہیں یا اسکے لیے خطرنا ک ہے کر اچی ایک آتش فشا ں کاروپ دھا ر چکا ہے جس میں وقفے وقفے سے لا وا ابل کر با ہر آتا ہے تبا ہی مچا تا ہے جا نو ں کا نذرانہ و صو ل کر تا ہے اور خا موش ہو جا تا ہے ۔
ایک دن میں پچاس سے زا ئد گا ڑ یاں نذر آ تش ہو جا ئیں کسی کو بھی گھر میں گھس کر دن دھا ڑے قتل کر دیا جا ئے کیا یہ المیہ نہیں ؟کچھ دن امن رہتا ہے پھر وہی بگڑتی صو رتحا ل ، روز انہ گھرو ں سے کا م پر نکلنے والوں کو کو ئی امید نہیں ہوتی کہ واپس صیح سلا مت آئیں گیں یا خدا نخوستہ کسی ان جا نی گو لی کا شکا ر ہو جا ئیں گیں کہیں سے کو ئی انسا ن نما حیوا ن وارد ہو کئی گھرو ں کے چشم وچرا غ گل کر کے غا ئب ہو جا ئے ہیں، پھر لا کھ کو شش کر یں قا تلو ں کے با رے میں کچھ پتہ نہیں لگتا ۔خانہ پر ی کے لیے بے گنا ہ لو گ پکڑے جا تے ہیں قا نو ن نا فذ کر نے والے الگ بے بس ہیں گو یاا پنے ہی ملک میں اپنے ہی لو گو ں کے ہا تھو ں ایک دوسر ے کے خو ن سے ہا تھ رنگے جا رہے ہیں ۔درجنو ں لو گو ں کی ہلا کتو ں کے بعد سرکا ری مشنری حرکت میں آتی ہے تصفیہ کے لیے پا رٹیو ں کو ایک جگہ جمع کیاجاتا ہے سیا ست دا ن اپنی پا رٹی کی مظلو میت میں نعر ہ لگاتے ہیں کہ یہ سیا سی نعرے ان کی سیا سی اقتدار کو مستحکم کر تے ہیں ان کے وسائل کا رو بار چلتا ہے ان کی فتح کا پر چم بلندہو تا ہے اور ہماری معصوم عوا م نہیں جا نتے کہ جس جگہ اور جہا ں ان کے مفا دات وا بستہ ہوں وہ اپنی قوم کو قر بانی کے لیے آگے کر دیتے ہیںیہ معصو م عوام اپنی قومیت کے زعم میں ما ری جا تی ہے ۔ کو ئی سندھی ہے تو اسے وڈیرو ں کی بڑا ئی اپنے اندر محسوس ہو تی ہی، کو ئی پنجا بی ہے تو گو جر چو ہدری سب سے اعلی وارفع نظر آتے ہیں ، پشتو ن ہیں تو اپنے اندر خلجی عظمت کے امین بنتے نظر آتے ہیں ۔میںسمجھتی ہو ں کہ پا کستا نی ایک قوم بن کر رہنے میں ہما ری عظمت اور بھلا ئی ہے با قی سب با تیں فضو ل ہیں ہم سب ایک پا کستا نی شہری ہیں جو صدیو ں سے مختلف تہذ یبو ں کا گہو راہ ہی،جہا ںتما م قو میت اپنا ایک ا علی مقام رکھتی ہے اس لسا نی فسادات میں ہم اپنے ہی مسلما ن بھا ئی خو ن بہا رہے ہیں ایسی خطر نا ک صو رتحا ل سے نبٹنے کے لیے ضروری ہے کہ ان ٹا رگٹ کلنگ کے اصل و جو ہا ت کو تلا ش کیا جا ئے جب تک اصل مسئلہ کو حل نہیں کیا جائے گا یہ سلسلہ جا ری رہے گاٹار گٹ کلنگ کی جو لہراس شہر میں آئی ہے خدا کر ئے کہ اس خاتمہ ہو سکے ۔افتخار عارف کی یہ نظم ایسا لگتا ہے اسی شہر کے تنا ظرمیں لکھی گئی آپ کی نذر ہی۔
 اس شہر و خس خاشاک سے خو ف آتا ہی
جس شہر کا وارث ہوں اس سے خوف آتا ہے
 شکل بننے نہیں پا تی کہ بگڑ جا تی ہی
نئی مٹی کو چا ک سے خوف آتا ہی
وقت نے ایسے گھمائے کہ افق، آفاق کہ بس
  محور گردش سفا ک سے خوف آتا ہی
یہی لمحہ تھا کہ معیار سخن ٹہرا تھا
اب لہجہ بے باک سے خوف آتا ہے
 آگ جب آگ سے ملتی ہے تو لہو دیتی ہے
 خاک کو خاک کی پو شاک سے خوف آتا ہی
کبھی افلا ک سے نا لوں کے جواب آتے تھی
ان دنوں عالم افلا ک سے خوف آتا
 ہیرحمت سید لو لا ک پہ کامل ایما ن
امت سید لو لا ک سے خوف آتا ہی

Wednesday, February 1, 2012

ARRANGEMENTS FOR 12TH RABI-UL-AWWAL

Administrator KMC Muhammad Hussain Syed has directed to remove all garbage collection points around the mosques and route of main procession of Eid-e-Milad-un-Nabi(PBUH)and complete all necessary arrangements including cleaning before 12th of Rabi-ul-Awwal. He also instructed to carry out repair and maintenance work of all streets lights and sewerage system in the city. Administrator Karachi said all the municipal resources including machinery, vehicles and manpower should be mobilized for 12th Rabi-ul-Awwal. He said measures should be taken in an efficient way for ensuring cleanliness on 12th Rabi-ul-Awwal especially in and around the Nishter Park. In a meeting held in connection with the arrangements for 12th Rabi-ul-Awwal.

Sunday, October 30, 2011

NIM DELEGATION VISITS KARACHI CITY GOVERNMENT

The participants of 12th Mid Career Management Course in National Institute of Management visited head office of City District Government Karachi on Thursday. The delegation called on District Coordination Officer Karachi Roshan Ali Shaikh in his office at Civic Center.

Later during a meeting attended by the delegation with EDOs of City Government and Director General National Institute of Management, DCO Karachi Roshan Ali Shaikh appraised the delegation about the preparation of development plan and other mega projects initiated in Karachi.

He said that the shifting of rural population to urban areas all over the world had been creating many problems for mega cities including Karachi.

City Government Karachi has taken various measures to ensure the availability of civic facilities for every citizen. Unfortunately, the city of Karachi did not have any mass transit system which had created traffic related problems. The population of Karachi would exceed 30million mark by 2030. The city administration was therefore taking all initiatives to solve the problems regarding mass transit system and solid waste management.

DCO Karachi said that the city government was making all efforts to provide better facilities to citizens in each sector including education, health & fumigation, transport and infrastructure development. Anti encroachments cell of city government had been taking action against all illegal occupations of land.

He said the rules and regulations of transparency international and SPPRA were being implemented in Karachi to set a tradition of good governance.